اشعار
Ashaar
Mirza Asadullah Khan Ghalib · 59 Ashaar
- آج یک شنبے کا دن ہے آؤ گے
- اگر ہوتا تو کیا ہوتا یہ کہیے
- اسدؔ بہار تماشائے گلستان حیات
- از دل ہر درد مندی جوش بیتابی زدن
- بہار شوخ و چمن تنگ و رنگ گل دلچسپ
- بے چارہ کتنی دور سے آیا ہے شیخ جی
- بتو توبہ کرو تم کیا ہو جب اعتبار آتا ہے
- دم واپسیں بر سر راہ ہے
- دیکھتا ہوں اسے تھی جس کی تمنا مجھ کو
- دل تو ہو اچھا نہیں ہے گر دماغ
- درم و دام اپنے پاس کہاں
- دو رنگیاں یہ زمانے کی جیتے جی ہیں سب
- گاتی تھیں شمرو کی بیگم تناہا یاہو
- گر مصیبت تھی تو غربت میں اٹھا لیتا اسدؔ
- حالت ترے عاشق کی یہ اب آن بنی ہے
- ہاتف غیب سن کے یہ چیخا
- ہنستے ہیں دیکھ دیکھ کے سب ناتواں مجھے
- ہو کر شہید عشق میں پائے ہزار جسم
- ان دل فریبیوں سے نہ کیوں اس پہ پیار آئے
- جور زلف کی تقریر پیچ تاب خاموشی
- جس دن سے کہ ہم غمزدہ زنجیر بپا ہیں
- جو حد تقوی ادا نہ ہووے تو اپنا مذہب یہی ہے غالبؔ
- جو معشوق زلف دوتا باندھتے ہیں
- کرتا ہے گل جنون تماشا کہیں جسے
- خدا کے بعد نبیؐ اور نبیؐ کے بعد امام
- خدا سے میں بھی چاہوں از رہ مہر
- خوشی جینے کی کیا مرنے کا غم کیا
- کوئی اس کا جواب دو صاحب
- مے کشی کو نہ سمجھ بے حاصل
- میں قائل خدا و نبیؐ و امام ہوں