رباعیات
Rubaiyat
Mirza Asadullah Khan Ghalib · 34 Rubaiyat
- اے کثرت فہم بے شمار اندیشہ
- آتش بازی ہے جیسے شغل اطفال
- اے منشی خیرہ سر سخن ساز نہ ہو
- اے روشنی دیدہ شہاب الدین خاں
- اصحاب کو جو کہ ناسزا کہتے ہیں
- بے گریہ کمال ترجبینی ہے مجھے
- بھیجی ہے جو مجھ کو شاہ جمجاہ نے دال
- دیکھ وہ برق تبسم بس کہ دل بیتاب ہے
- دل سخت نژند ہوگیا ہے گویا
- دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ
- گر جوہر امتیاز ہوتا ہم میں
- گلخن شرر اہتمام بستر ہے آج
- ہے خلق حسد قماش لڑنے کے لیے
- ہیں شہ میں صفات ذوالجلالی باہم
- ہم گرچہ بنے سلام کرنے والے
- حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے
- ہر چند کہ دوستی میں کامل ہونا
- اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے
- جن لوگوں کو ہے مجھ سے عداوت گہری
- کہتے ہیں کہ اب وہ مردم آزار نہیں
- دل تھا کہ جو جان درد تمہید سہی
- سامان ہزار جستجو یعنی دل
- بعد از اتمام بزم عید اطفال
- اے کاش بتاں کا خنجر سینہ شگاف
- دل سوز جنوں سے جلوہ منظر ہے آج
- مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل
- رقعے کا جواب کیوں نہ بھیجا تم نے
- سامان خور و خواب کہاں سے لاؤں
- شب زلف و رخ عرق فشاں کا غم تھا
- ان سیم کے بیجوں کو کوئی کیا جانے