ہو کر شہید عشق میں پائے ہزار جسم

(Sher)

ہو کر شہید عشق میں پائے ہزار جسم
ہر موج گرد راہ مرے سر کو دوش ہے
ہو کر شہید عشق میں پائے ہزار جسم — مرزا اسد اللہ خان غالب