صبا لگا وہ طپانچے طرف سے بلبل کی

(Sher)

صبا لگا وہ طپانچے طرف سے بلبل کی
کہ روئے غنچۂ گل سوئے آشیاں پھر جائے
صبا لگا وہ طپانچے طرف سے بلبل کی — مرزا اسد اللہ خان غالب