دل تو ہو اچھا نہیں ہے گر دماغ

(Sher)

دل تو ہو اچھا نہیں ہے گر دماغ
کچھ تو اسباب تمنا چاہیے
دل تو ہو اچھا نہیں ہے گر دماغ — مرزا اسد اللہ خان غالب