اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے

(Rubai)

اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے
رکھتے ہیں عشق میں یہ اثر ہم جگر جلے
پروانے کا نہ غم ہو تو پھر کس لیے اسدؔ
ہر رات شمع شام سے لے تا سحر جلے
اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے — مرزا اسد اللہ خان غالب