یوں بعد ضبط اشک پھروں گر دیار کے

(Ghazal)

یوں بعد ضبط اشک پھروں گر دیار کے
پانی پیے کسو پہ کوئی جیسے وار کے
 
سیماب پشت گرمی آئینہ دے ہے ہم
حیراں کیے ہوئے ہیں دل بے قرار کے
 
بعد از وداع یار بخوں در تپیدہ ہیں
نقش قدم ہیں ہم کف پاے نگار کے
 
ظاہر ہے ہم سے کلفت بخت سیاہ روز
گویا کہ تختہ مشق ہیں خط غبار کے
 
حسرت سے دیکھ رہتے ہیں ہم آب و رنگ گل
مانند شبنم اشک ہیں مژگان خار کے
 
آغوش گل کشودہ براے وداع ہے
اے عندلیب چل کہ چلے دن بہار کے
 
ہم مشق فکر وصل و غم ہجر سے اسدؔ
لائق نہیں رہے ہیں غم روزگار کے

Source: غیر متداول