یاں اشک جدا گرم ہے اور آہ جدا گرم
یاں اشک جدا گرم ہے اور آہ جدا گرم
حسرت کدۂ عشق کی ہے آب و ہوا گرم
اس شعلے نے گلگوں کو جو گلشن میں کیا گرم
پھولوں کو ہوئی باد بہاری وہ ہوا گرم
وا کرسکے یاں کون بجز کاوش شوخی
جوں برق ہے پیچیدگی بند قبا گرم
گر ہے سر دریوزگی جلوۂ دیدار
جوں پنجۂ خرشید ہو اے دست دعا گرم
یہ آتش ہمسایہ کہیں گھر نہ جلا دے
کہ ہے دل سوزاں نے مرے پہلو میں جا گرم
غیروں سے اسے گرم سخن دیکھ کے غالبؔ
میں رشک سے جوں آتش خاموش رہا گرم