یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ یا رب مجھے

(Ghazal)

یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ یا رب مجھے
سبحۂ زاہد ہوا ہے خندہ زیر لب مجھے
 
ہے کشاد خاطر وابستہ در رہن سخن
تھا طلسم قفل ابجد خانۂ مکتب مجھے
 
یا رب اس آشفتگی کی داد کس سے چاہئے
رشک آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے
 
طبع ہے مشتاق لذت ‌ہاۓ حسرت کیا کروں
آرزو سے ہے شکست آرزو مطلب مجھے
 
دل لگا کر آپ بھی غالبؔ مجھی سے ہو گئے
عشق سے آتے تھے مانع میرزاؔ صاحب مجھے
 
صبح نا پیدا ہے کلفت خانۂ ادبار میں
توڑنا ہوتا ہے رنگ یک نفس ہر شب مجھے
 
شومیٔ طالع سے ہوں ذوق معاصی میں اسیر
نامۂ اعمال ہے تاریکیٔ کوکب مجھے
 
درد نا پیدا و بیجا تہمت وارستگی
پردہ دار یاوگی ہے وسعت مشرب مجھے

Source: متداول