ہوں بہ وحشت انتظار آوارۂ دشت خیال
ہوں بہ وحشت انتظار آوارۂ دشت خیال
اک سفیدی مارتی ہے دور سے چشم غزال
ہے نفس پروردہ گلشن کس ہواے بام کا
طوق قمری میں ہے سرد باغ ریحان سفال
ہم غلط سمجھے تھے لیکن زخم دل پر رحم کر
آخر اس پردے میں تو ہنستی تھی اے صبح وصال
بیکسی افسردہ ہوں اے ناتوانی کیا کروں
جلوۂ خرشید سے ہے گرم پہلوے ہلال
شکوہ درد و درد داغ اے بے وفا معذور رکھ
خوں بہاے یک جہاں امید ہے تیرا خیال
عرض درد بے وفائی وحشت اندیشہ ہے
خوں ہوا دل تا جگر یارب زبان شکوہ لال
اس جفا مشرب پہ عاشق ہوں کہ سمجھے ہے اسدؔ
مال سنّی کو مباح اور خون صوفی کو حلال