ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے

(Ghazal)

ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
مرتے ہیں ولے ان کی تمنا نہیں کرتے
 
در پردہ انہیں غیر سے ہے ربط نہانی
ظاہر كا یے پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے
 
یے باعث نومیدی ارباب ہوس ہے
غالبؔ کو برا کہتے ہیں اچھا نہیں کرتے
 
کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
خط پیالہ سراسر نگاہ گل چیں ہے
 
کبھی تو اس دل شوریدہ کی بھی داد ملے
کہ ایک عمر سے حسرت پرست بالیں ہے
 
بجا ہے گر نہ سنے نالہ ‌ہائے بلبل زار
کہ گوش گل نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
 
اسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا برائے خدا
مقام ترک حجاب و وداع تمکیں ہے

Source: متداول