ہاتھ پر گر ہاتھ مارے یار وقت قہقہہ

(Ghazal)

ہاتھ پر گر ہاتھ مارے یار وقت قہقہہ
کرمک شب تاب آسا مہ پر افشانی کرے
 
وقت اس افتادہ کا خوش جو قناعت سے اسد
نقش پائے مور کو تخت سلیمانی کرے

Source: غیر متداول