گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے

(Ghazal)

گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے
ہر غنچہ كا گل ہونا آغوش کشائی ہے
 
واں کنگر استغنا ہر دم ہے بلندی پر
یاں نالہ کو اور الٹا دعواۓ رسائی ہے
 
از بس کہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازے
جو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہے
 
آئینہ نفس سے بھی ہوتا ہے کدورت کش
عاشق کو غبار دل اک وجۂ صفائی ہے
 
ہنگام تصور ہوں دریوزہ گر بوسہ
یہ کاسۂ زانو بھی اک جام گدائی ہے
 
وہ دیکھ کے حسن اپنا مغرور ہوا غالبؔ
صد جلوۂ آئینہ یک صبح جدائی ہے

Source: متداول