کیونکر اس بت سے رکھوں جان عزیز

(Ghazal)

کیونکر اس بت سے رکھوں جان عزیز
کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز
 
دل سے نکلا پہ نہ نکلا دل سے
ہے ترے تیر کا پیکان عزیز
 
تاب لائے ہی بنے گی غالبؔ
واقعہ سخت ہے اور جان عزیز

Source: متداول

کیونکر اس بت سے رکھوں جان عزیز — مرزا اسد اللہ خان غالب