کنج میں بیٹھا رہوں یوں پر کھلا

(Ghazal)

کنج میں بیٹھا رہوں یوں پر کھلا
کاش کے ہوتا قفس کا در کھلا
 
ہم پکاریں اور کھلے یوں کون جاے
یار کا دروازہ پاویں گر کھلا
 
ہم کو ہے اس راز داری پر گھمنڈ
دوست کا ہے راز دشمن پر کھلا
 
واقعی دل پر بھلا لگتا تھا داغ
زخم لیکن داغ سے بہتر کھلا
 
ہاتھ رکھ دی کب ابرو نے کماں
کب کمر سے غمزے کی خنجر کھلا
 
مفت کا کس کو برا ہے بدرقہ
رہروی میں پردۂ رہبر کھلا
 
سوز دل کا کیا کرے باران اشک
آگ بھڑکی منہ اگر دم بھر کھلا
 
تامے کے ساتھ آگیا پیغام مرگ
رہ گیا خط میری چھاتی پر کھلا
 
دیکھیو غالبؔ سے گر الجھا کوئی
ہے ولی پوشیدہ اور کافر کھلا

Source: غیر متداول

کنج میں بیٹھا رہوں یوں پر کھلا — مرزا اسد اللہ خان غالب