کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں

(Qata)

کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں
اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہاے ہاے
وہ سبزہ زار ہاے مطرا کہ ہے غضب
وہ نازنیں بتان خود آرا کہ ہاے ہاے
صبر آزما وہ ان کی نگاہیں کہ حف نظر
طاقت ربادہ ان کا اشارا کہ ہاے ہاے
وہ میوہ ہاے تازۂ شیریں کہ واہ واہ
وہ بادہ ہاے ناب گوارا کہ ہاے ہاے
کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں — مرزا اسد اللہ خان غالب