کرے ہے رہرواں سے خضر راہ عشق جلادی

(Ghazal)

کرے ہے رہرواں سے خضر راہ عشق جلادی
ہوا ہے موجۂ ریگ رواں شمشیر فولادی
 
نظر بند تصور ہے قفس میں لطف آزادی
شکست آرزو کے رنگ کی کرتا ہوں صیادی
 
کرے ہے حسن ویراں کار روے سادہ رویاں پر
غبار خط سے تعمیر بناے خانہ بربادی
 
چنار آسا عدم سے بادل پر آتش آیا ہوں
تہی آغوشی دشت تمنا کا ہوں فریادی
 
اسدؔ از بس کہ فوج درد و غم سر گرم جولاں ہے
غبار راہ ویرانی ہے ملک دل کی آبادی

Source: غیر متداول