کارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلا
کارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلا
میری قسمت کا نہ ایک آدھ گریباں نکلا
ساغر جلوۂ سرشار ہے ہر ذرۂ خاک
شوق دیدار بلا آئنہ ساماں نکلا
زخم نے داد نہ دی تنگی دل کی یارب
تیر بھی سینۂ بسمل سے پر افشاں نکلا
بوے گل نالۂ دل دود چراغ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
کچھ کھٹکتا تھا مرے سینے میں لیکن آخر
جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا
کس قدر خاک ہوا ہے دل مجنوں یارب
نقش ہر ذرہ سویداے بیاباں نکلا
دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالبؔ
آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا