پھر ہوا مدحت طرازی کا خیال

(Ghazal)

پھر ہوا مدحت طرازی کا خیال
پھر مہ و خرشید کا دفتر کھلا
 
خامے سے پائی طبیعت نے مدد
بادباں بھی اٹھتے ہی لنگر کھلا
 
مدح سے ممدوح کی دیکھی شکوہ
یاں عرض سے رتبۂ جوہر کھلا
 
مہر کانپا چرخ چکر کھا گیا
بادشہ کا رایت لشکر کھلا
 
بادشہ کا نام لیتا ہے خطیب
اب علو پایۂ منبر کھلا
 
سکۂ شہ کا ہوا ہے روشناس
اب عیار آبروے زر کھلا
 
شاہ کے آگے دھرا ہے آئنہ
اب مآل سعی اسکندر کھلا
 
ملک کے وارث کو دیکھا خلق نے
اب فریب طغرل و سنجر کھلا
 
ہوسکے کیا مدح ہاں اک نام ہے
دفتر مدح جہاں داور کھلا
 
فکر اچھی پر ستایش ناتمام
عجز اعجاز ستایش گر کھلا
 
جانتا ہوں ہے خط لوح ازل
تم پہ اے خاقان نام آور کھلا
 
تم کرو صاحب قرانی جب تلک
ہے طلسم روز و شب کا در کھلا

Source: غیر متداول