نگاہ ناز نے جب عرض تکلیف شرارت کی

(Ghazal)

نگاہ ناز نے جب عرض تکلیف شرارت کی
دیا ابرو کو چھیڑ اور اس نے فتنے کو اشارت کی
 
روانی موج مے کی گر خط جام آشنا ہووے
لکھے کیفیت اس سطر تبسم کی عبارت کی
 
شہ گل نے کیا جب بندوبست گلشن آرائی
عصاے سبز دے نرگس کو دی خدمت نظارت کی
 
نہیں ریزش عرق کی اب اسے ذوبان اعضا ہے
تب خجلت نے یہ نبض رگ گل میں حرارت کی
 
زبس نکلا غبار دل بوقت گریہ آنکھوں سے
اسدؔ کھائے ہوئے سرمے نے آنکھوں میں بصارت کی

Source: غیر متداول

نگاہ ناز نے جب عرض تکلیف شرارت کی — مرزا اسد اللہ خان غالب