نگاہ اس چشم کی افزوں کرے ہے ناتوانائی

(Ghazal)

نگاہ اس چشم کی افزوں کرے ہے ناتوانائی
پر بالش ہے وقت دید مژگان تماشائی
 
شکست قیمت دل آں سوے عذر شناسائی
طلسم نا امیدی ہے خجالت گاہ پیدائی
 
پر طاؤس ہے نیرنگ داغ حیرت انشائی
دو عالم دیدۂ بسمل چراغاں جلوہ پیمائی
 
تحیر ہے گریباں گیر ذوق جلوہ پیرائی
ملی ہے جوہر آئینہ کو جوں بخیہ گیرائی
 
شرار سنگ سے پادرحنا گلگون شیریں ہے
ہنوز اے تیشۂ فرہاد عرض آتشیں پائی
 
غرور دست رونے شانہ توڑا فرق ہدہد پر
سلیمانی ہے ننگ بے دماغان خود آرائی
 
جنوں افسردہ و جاں ناتواں اے جلوہ شوخی کر
گئی یک عمر خودداری باستقبال رعنائی
 
نگاہ عبرت افسوں گاہ برق و گاہ مشعل ہے
ہوا ہر خلوت و جلوت سے حاصل ذوق تنہائی
 
جنون بیکسی ساغر کش داغ پلنگ آیا
شرر کیفیت مے سنگ محو ناز مینائی
 
خدایا خوں ہو رنگ امتیاز اور نالہ موزوں ہو
جنوں کو سخت بیتابی ہے تکلیف شکیبائی
 
خرابات جنوں میں ہے اسدؔ وقت قدح نوشی
بہ عشق ساقی کوثر بہار بادہ پیمائی

Source: غیر متداول

نگاہ اس چشم کی افزوں کرے ہے ناتوانائی — مرزا اسد اللہ خان غالب