میں ہوں سراب یک تپش آموختن ہنوز

(Ghazal)

میں ہوں سراب یک تپش آموختن ہنوز
زخم جگر ہے تشنۂ لب دوختن ہنوز
 
اے شعلۂ فرصتے کہ سویداے دل سے ہوں
کشت سپند صد جگر اندوختن ہنوز
 
فانوس شمع ہے کفن کشتگان شوق
در پردہ ہے معاملۂ سوختن ہنوز
 
مجنوں فسون شعلہ خرامی فسانہ ہے
ہے شمع جادہ داغ ینفروختن ہنوز
 
کو یک شرر کہ ساز چراغاں کروں اسدؔ
بزم طرب ہے پردگی سوختن ہنوز

Source: غیر متداول

میں ہوں سراب یک تپش آموختن ہنوز — مرزا اسد اللہ خان غالب