مبادا بے تکلف فصل کا برگ و نوا گم ہو
مبادا بے تکلف فصل کا برگ و نوا گم ہو
مگر طوفان مے میں پیچش موج صبا گم ہو
سبب وارستگاں کو ننگ ہمت ہے خداوندا
اثر سرمے سے اور لب ہاے عاشق سے صدا گم ہو
نہیں جز درد تسکین نکوہش ہاے بیدر داں
کہ موج گریہ میں صد خندۂ دنداں نما گم ہو
ہوئی ہے ناتوانی بے دماغ شوخی مطلب
فرو ہوتا ہے سر سجدے میں اے دست دعا گم ہو
تجھے ہم مفت دیویں یک جہاں چین جبیں لیکن
مباداے پیچتاب طبع نقش مدعا گم ہو
بلا گردان تمکین بتاں صد موجۂ گوہر
عرق بھی جن کے عارض پر بہ تکلیف حیا گم ہو
اٹھاوے کب وہ جان شرم تہمت قتل عاشق کی
کہ جس کے ہاتھ میں مانند خوں رنگ حنا گم ہو
کریں خوباں جو سیر حسن اسدؔ یک پردہ نازک تر
دم صبح قیامت در گریبان قبا گم ہو