فسون یک دلی ہے لذت بیداد دشمن پر
فسون یک دلی ہے لذت بیداد دشمن پر
کہ وجد برق جوں پروانہ بال افشاں ہے خرمن پر
تکلف خار خار التماس بے قراری ہے
کہ رشتہ باندھتا ہے پیرہن انگشت سوزن پر
یہ کیا وحشت ہے اے دیوانے پیش از مرگ واویلا
رکھی بے جا بناے خانۂ زنجیر شیون پر
جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
گریباں چاک کا حق ہوگیا ہے میری گردن پر
برنگ کاغذ آتش زدہ نیرنگ بیتابی
ہزار آئینہ دل باندھے ہے بال یک تپیدن پر
فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
متاع بردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر
ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
شعاع مہر سے تہمت نگہ کہ چشم روزن پر
فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
فروغ طالع خاشاک ہے موقوف گلنحن پر
اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے
کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
فروغ طالع خاشاک ہے موقوف گلخن پر