فرو پیچیدنی ہے فرش بزم عیش گستر کا

(Ghazal)

فرو پیچیدنی ہے فرش بزم عیش گستر کا
دریغا گردش آموز فلک ہے دور ساغر کا
 
خط نوخیز کی آئینے میں دی کس نے آرایش
کہ ہے تہ بندی پر ہاے طوطی رنگ جوہر کا
 
گیا جو نامہ بر واں سے برنگ باختہ آیا
خطوط روے قالیں نقش ہے پشت کبوتر کا
 
شکست گوشہ گیراں ہے فلک کو حاصل گردش
صدف سے آسیاے آب میں ہے دانہ گوہر کا
 
فزوں ہوتا ہے ہر دم جوش خونباری تماشا ہے
نفس کرتا ہے رگ ہاے مژہ پر کام نشتر کا
 
خیال شربت عیسیٰ گداز تر جبینی ہے
اسدؔ ہوں مست دریا بخشی ساقی کوثر کا

Source: غیر متداول