فتادگی میں قدم استوار رکھتے ہیں

(Ghazal)

فتادگی میں قدم استوار رکھتے ہیں
بہ رنگ جادہ سر کوے یار رکھتے ہیں
 
برہنہ مستی صبح بہار رکھتے ہیں
جنون حسرت یک جامہ دار رکھتے ہیں
 
طلسم مستی دل آں سوے ہجوم سر شک
ہم ایک میکدہ دریا کے پار رکھتے ہیں
 
ہمیں حریر شرر باف سنگ خلعت ہے
یہ ایک پیرہن زر نگار رکھتے ہیں
 
نگاہ دیدۂ نقش قدم ہے جادۂ راہ
گزشتگاں اثر انتظار رکھتے ہیں
 
ہوا ہے گریۂ بے باک ضبط سے تسبیح
ہزار دل پہ ہم ایک اختیار رکھتے ہیں
 
بساط ہیچ کسی میں برنگ ریگ رواں
ہزار دل بہ وداع قرار رکھتے ہیں
 
برنگ سایہ سروکار انتظار نہ پوچھ
سراغ خلوت شب ہاے تار رکھتے ہیں
 
جنون فرقت یاران رفتہ ہے غالبؔ
بسان دشت دل پر غبار رکھتے ہیں

Source: غیر متداول