عالم جہاں بعرض بساط وجود تھا
عالم جہاں بعرض بساط وجود تھا
جوں صبح چاک جیب مجھے تار و پود تھا
بازی خور فریب ہے اہل نظر کا ذوق
ہنگامہ گرم حیرت بود و نمود تھا
عالم طلسم شہر خموشاں ہے سر بسر
یا میں غریب کشور گفت و شنود تھا
جز قیس اور کوئی نہ آیا بروے کار
صحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا
آشفتگی نے نقش سویدا کیا درست
ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ
سرگشتۂ خمار رسوم و قیود تھا