ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا
ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا
اک گھر میں مختصر سا بیاباں ضرور تھا
اے واے غفلت نگہ شوق ورنہ یاں
ہر پارہ سنگ لخت دل کوہ طور تھا
درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے
وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا
شاید کہ مرگیا ترے رخسار دیکھ کر
پیمانہ رات ماہ کا لبریز نور تھا
آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے
اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
جنت ہے تیری تیغ کے کشتوں کی منتظر
جوہر سواد جلوۂ مژگان حور تھا
ہر رنگ میں جلا اسدؔ فتنہ انتظار
پروانۂ تجلی شمع ظہور تھا