صبح ناپیدا ہے کلفت خانۂ ادبار میں

(Ghazal)

صبح ناپیدا ہے کلفت خانۂ ادبار میں
توڑنا ہوتا ہے رنگ یک نفس ہر شب مجھے
 
شومی طالع سے ہوں ذوق معاصی میں اسیر
نامۂ اعمال ہے تاریکئ کوکب مجھے
 
درد ناپیدا و بیجا تہمت وارستگی
پردہ دار یادگی ہے وسعت مشرب مجھے

Source: غیر متداول