شیشۂ آتشیں رخ پر نور
شیشۂ آتشیں رخ پر نور
عرق از خط چکیدہ روغن مور
بس کہ ہوں بعد مرگ بھی نگراں
مردمک سے ہے خال بر لب گور
بار لائی ہے دانہ ہاے سر شک
مژہ ہے ریشۂ رز انگور
ظلم کرنا گداے عاشق پر
نہیں شاہان حسن کا دستور
دوستو مجھ ستم رسیدہ سے
دشمنی ہے وصال کا مذکور
زندگانی پہ اعتماد غلط
ہے کہاں قیصر اور کہاں فغفور
کیجیے جوں اشک اور قطرہ زنی
اے اسدؔ ہے ہنوز دلی دور