شمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیا

(Ghazal)

شمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیا
تماشائے بہ یک کف بردن صد دل پسند آیا
 
بہ فیض بے دلی نومیدیٔ جاوید آساں ہے
کشایش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا
 
ہوائے سیر گل آئینۂ بے مہریٔ قاتل
کہ انداز بہ خوں غلتیدن بسمل پسند آیا
 
روانی ہائے موج خون بسمل سے ٹپکتا ہے
کہ لطف بے تحاشا رفتن قاتل پسند آیا
 
اسدؔ ہر جا سخن نے طرح باغ تازہ ڈالی ہے
مجھے رنگ بہار ایجادی بیدل پسند آیا
 
سواد چشم بسمل انتخاب نقطہ آرائی
خرام ناز بے پروائی قاتل پسند آیا
 
ہوئی جس کو بہار فرصت ہستی سے آگاہی
برنگ لالہ جام بادہ بر محل پسند آیا

Source: متداول