سوداے عشق سے دم سرد کشیدہ ہوں

(Ghazal)

سوداے عشق سے دم سرد کشیدہ ہوں
شام خیال زلف سے صبح دمیدہ ہوں
 
دوران سر سے گردش ساغر ہے متصل
خمخانۂ جنوں میں دماغ رسیدہ ہوں
 
کی متصل ستارہ شماری میں عمر صرف
تسبیح اشک ہاے زمژگاں چکیدہ ہوں
 
ظاہر ہیں میری شکل سے افسوس کے نشاں
خار الم سے پشت بدنداں گزیدہ ہوں
 
ہوں گرمی نشاط تصور سے نغمہ سنج
میں عندلیب گلشن نا آفریدہ ہوں
 
دیتا ہوں کشتگاں کو سخن سے سر تپش
مضراب تار ہاے گلوے بریدہ ہوں
 
ہے جنبش زباں بدہن سخت ناگوار
خونابۂ ہلاہل حسرت چشیدہ ہوں
 
جوں بوے گل ہوں گرچہ گراں بار مشت زر
لیکن اسدؔ بوقت گزشتن جریدہ ہوں

Source: غیر متداول