سمجھاؤ اسے یہ وضع چھوڑے

(Ghazal)

سمجھاؤ اسے یہ وضع چھوڑے
جو چاہے کرے پہ دل نہ توڑے
 
تقریر کا اس کی حال مت پوچھ
معنی ہیں بہت تو لفظ تھوڑے
 
نذر مژہ کر دل و جگر کو
چیرے ہی سے جائیں گے یہ پھوڑے
 
عاشق کو یہ چاہیے کہ ہرگز
اندوہ سے ڈر کے منھ نہ موڑے
 
آجا لب بام کوئی کب تک
دیوار سے اپنے سر کو پھوڑے
 
جاتے ہیں رقیب کو خط اس کے
کاغذ کے دوڑتے ہیں گھوڑے
 
غم خوار کو ہے قسم زنہار
غالبؔ کو نہ تشنہ کام چھوڑے
 
حسرت زدۂ طرب ہے یہ شخص
دم جب کہ بہ وقت نزع توڑے
 
پانی نہ چوائے اس کے منھ میں
گل مے میں بھگو بھگو نچوڑے

Source: غیر متداول