سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگا ں سے جانے میں

(Ghazal)

سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگا ں سے جانے میں
رہے یاں شوخی رفتار سے پا آستانے میں
 
ہجوم مژدۂ دیدار و پرواز تماشا ہا
گل اقبال خس ہے چشم بلبل آشیانے میں
 
ہوئی یہ بیخودی چشم و زباں کو تیرے جلوے سے
کہ طوطی قفل زنگ آلودہ ہے آئینہ خانے میں
 
ترے کوچے میں بنے مشاطہ واماندگی قاصد
پر پرواز زلف ناز ہے ہدہد کے شانے میں
 
کجا معزولی آئینہ کو ترک خود آرائی
نمدور آب ہے اے سادہ پرکار اس بہانے میں
 
بحکم عجز ابروے مہ نو حیرت ایما ہے
کہ یاں گم کر جبیں سجدہ فرسا آستانے میں
 
قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشت قیس میں آنا
تعجب سے وہ بولا یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں
 
دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ
نہ کر سر گرم اس کافر کی الفت آزمانے میں

Source: غیر متداول