سحر گہ باغ میں وہ حیرت گلزار ہو پیدا

(Ghazal)

سحر گہ باغ میں وہ حیرت گلزار ہو پیدا
اڑے رنگ گل اور آئینہ دیوار ہو پیدا
 
بتاں زہراب اس شدت سے دو پیکان ناوک کو
کہ خط سبز تا پشت لب سوفار ہو پیدا
 
لگے گر سنگ سر پر یار کے دست نگاریں سے
بجاے زخم گل بر گوشۂ دستار ہو پیدا
 
کروں گر عرض سنگینی کہسار اپنی بیتابی
رگ ہر سنگ سے نبض دل بیمار ہو پیدا
 
بہ سنگ شیشہ توڑوں ساقیا پیمانہ پیماں
اگر ابر سیہ مست از سوے کہسار ہو پیدا
 
اسدؔ مایوس مت ہو گرچہ رونے میں اثر کم ہے
کہ غالب ہے کہ بعد از زاری بسیار ہو پیدا

Source: غیر متداول

سحر گہ باغ میں وہ حیرت گلزار ہو پیدا — مرزا اسد اللہ خان غالب