زنجیر یاد پڑتی ہے جادے کو دیکھ کر

(Ghazal)

زنجیر یاد پڑتی ہے جادے کو دیکھ کر
اس چشم سے ہنوز نگہ یادگار ہے
 
سودائی خیال ہے طوفان رنگ و بو
یاں ہے کہ داغ لالہ دماغ بہار ہے
 
بھونچال میں گرا تھا یہ آئینہ طاق سے
حیرت شہید جنبش ابروئے یار ہے
 
حیراں ہوں شوخی رگ یاقوت دیکھ کر
یاں ہے کہ صحبت خس آتش برار ہے

Source: غیر متداول

زنجیر یاد پڑتی ہے جادے کو دیکھ کر — مرزا اسد اللہ خان غالب