زلف سیہ افعی نظر بد قلمی ہے

(Ghazal)

زلف سیہ افعی نظر بد قلمی ہے
ہر چند خط سبز و زمرد رقمی ہے
 
ہے مشق وفا جانتے ہیں لغزش پا تک
اے شمع تجھے دعوی ثابت قدمی ہے
 
ہے عرض شکست آئنہ جرأت عاشق
جز آہ کہ سر لشکر وحشت علمی ہے
 
واماندۂ ذوق طرب وصل نہیں ہوں
اے حسرت بسیار تمنا کی کمی ہے
 
وہ پردہ نشیں اور اسدؔ آئینہ اظہار
شہرت چمن فتنہ و عنقا ارمی ہے

Source: غیر متداول

زلف سیہ افعی نظر بد قلمی ہے — مرزا اسد اللہ خان غالب