زبس ہے ناز پرواز غرور نشۂ صہبا
زبس ہے ناز پرواز غرور نشۂ صہبا
رگ بالیدۂ گردن ہے موج بادہ درمینا
در آب آئنہ از جوش عکس گیسوے مشکیں
بہار سنبلستان جلوہ گر ہے آں سوے دریا
کہاں ہے دیدۂ روشن کہ دیکھے بے حجابانہ
نقاب یار ہے از پردہ ہاے چشم نابینا
نہ دیجے پاس ضبط آبرو وقت شکستن بھی
تحمل پیشۂ تمکین رہیے آئنہ آسا
اسدؔ طبع متیں سے گر نکالوں شعر برجستہ
شرر ہو قطرۂ خون فسردہ در رگ خارا