زبس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا

(Ghazal)

زبس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا
چرایا زخم ہاے دل نے پانی تیغ قاتل کا
 
نگاہ چشم حاسد دام لے اے ذوق خود بینی
تماشائی ہوں وحدت خانۂ آئینہ دل کا
 
شرر فرصت نگہ سامان یک عالم چراغاں ہے
بہ قدر رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا
 
سراسر تاختن کوشش جہت یک عرصہ جولاں تھا
ہوا داماندگی سے رہرواں کی فرق منزل کا
 
سراپا رہن عشق و ناگزیر الفت ہستی
عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
 
بہ قدر ظرف ہے ساقی خمار تشنہ کامی بھی
جو تو دریاے مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
 
مجھے راہ سخن میں خوف گمراہی نہیں غالبؔ
عصاے خضر صحراے سخن ہے خامہ بیدل کا

Source: غیر متداول

زبس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا — مرزا اسد اللہ خان غالب