ربط تمیز اعیاں درد مئے صدا ہے
ربط تمیز اعیاں درد مئے صدا ہے
اعمی کو سرمۂ چشم آواز آشنا ہے
موے دماغ وحشت سر رشتۂ فنا ہے
شیرازۂ دو عالم یک آہ نارسا ہے
دیوانگی ہے تجھ کو درس خرام دینا
موج بہار یکسر زنجیر نقش پا ہے
پروانے سے ہو شاید تسکین شعلۂ شمع
آسایش وفاہا بیتابی جفا ہے
اے اضطراب سرکش یک سجدہ دار تمکیں
میں بھی ہوں شمع کشتہ گر داغ خوں بہا ہے
نے حسرت تسلی نے ذوق بے قراری
یک درد و صد دوا ہے یک دست و صد دعا ہے
دریاے مے ہے ساقی لیکن خمار باقی
تا کوچہ دادن موج خمیازہ آشنا ہے
وحشت نہ کھینچ قاتل حیرت نفس ہے بسمل
جب نالہ خوں ہو غافل تاثیر کیا بلا ہے
بت خانے میں اسدؔ بھی بندہ گاہ گاہے
حضرت چلے حرم کو اب آپ کا خدا ہے