دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں

(Ghazal)

دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
رکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں
 
دی سادگی سے جان پڑوں کوہ کن کے پاؤں
ہیہات کیوں نہ ٹوٹ گئے پیرزن کے پاؤں
 
بھاگے تھے ہم بہت سو اسی کی سزا ہے ی
ہو کر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پاؤں
 
مرہم کی جستجو میں پھرا ہوں جو دور دور
تن سے سوا فگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں
 
اللہ رے ذوق دشت نوردی کہ بعد مرگ
ہلتے ہیں خودبخود مرے اندر کفن کے پاؤں
 
ہے جوش گل بہار میں یاں تک کہ ہر طرف
اڑتے ہوئے الجھتے ہیں مرغ چمن کے پاؤں
 
شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیں
دکھتے ہیں آج اس بت نازک بدن کے پاؤں
 
غالبؔ مرے کلام میں کیوں کر مزا نہ ہو
پیتا ہوں دھوکے خسرو شیریں سخن کے پاؤں
 
بیچارہ کتنی دور سے آیا ہے شیخ جی
کعبے میں کیوں دبائیں نہ ہم برہمن کے پاؤں

Source: متداول