دل سراپا وقف سوداے نگاہ تیز ہے

(Ghazal)

دل سراپا وقف سوداے نگاہ تیز ہے
یہ زمیں مثل نیستاں سخت ناوک خیز ہے
 
ہوسکے کیا خاک دست و بازوے فرہاد سے
بیستوں خواب گران خسرو پرویز ہے
 
ان ستم کیشوں کے کھائے ہیں زبس تیر نگاہ
پردۂ بادام ایک غربال حسرت بیز ہے
 
خوں چکاں ہے جادہ مانند رگ سودائیاں
سبزۂ صحراے الفت نشتر خوں ریز ہے
 
ہے بہار تیز رو گلگون نکہت پر سوار
یک شکست رنگ گل صد جنبش مہمیز ہے
 
کیوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کیوں نہ ہو
یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
 
مرتے مرتے دیکھنے کی آرزو رہ جائے گی
واے ناکامی کہ اس کافر کا خنجر تیز ہے
 
عارض گل دیکھ روے یار یاد آیا اسدؔ
جوشش فصل بہاری اشتیاق انگیز ہے

Source: غیر متداول