دل بیمار از خود رفتہ تصویر نہالی ہے
دل بیمار از خود رفتہ تصویر نہالی ہے
کہ مژگاں ریشہ دار نیستان شیر قالی ہے
سرور نشۂ گردش اگر کیفیت افزا ہو
نہاں ہر گرد باد دشت میں جام سفالی ہے
عروج نشہ ہے سر تا قدم قد چمن رویاں
بجائے خود وگر نہ سرد بھی میناے خالی ہے
ہوا آئینۂ جام بادہ عکس روے گلگوں سے
نشان خال رخ داغ شراب پر تگالی ہے
بپاے خامۂ مو طے رہ وصف کمر کیجیے
کہ تار جادۂ سر منزل نازک خیالی ہے
اسدؔ اٹھنا قیامت قامتوں کا وقت آرایش
لباس نظم میں بالیدن مضمون عالی ہے