خوں در جگر نہفتہ بہ زردی رسیدہ ہوں

(Ghazal)

خوں در جگر نہفتہ بہ زردی رسیدہ ہوں
خود آشیان طائر رنگ پریدہ ہوں
 
ہے دست رد بہ سیر جہاں بستن نظر
پاے ہوس بدامن مژگاں کشیدہ ہوں
 
میں چشم وا کشادہ و گلشن نظر فریب
لیکن عبث کہ شبنم خرشید دیدہ ہوں
 
تسلیم سے یہ نالۂ موزوں ہوا حصول
اے بے خبر میں نغمۂ چنگ خمیدہ ہوں
 
پیدا نہیں ہے اصل تگ و تاز جستجو
مانند موج آب زبان بریدہ ہوں
 
سر پر مرے وبال ہزار آرزو رہا
یارب میں کس غریب کا بخت رمیدہ ہوں
 
میں بے ہنر کہ جوہر آئینہ تھا عبث
پاے نگاہ خلق میں خار خلیدہ ہوں
 
میرا نیاز و عجز ہے مفت بتاں اسدؔ
یعنی کہ بندۂ بہ درم نا خریدہ ہوں

Source: غیر متداول

خوں در جگر نہفتہ بہ زردی رسیدہ ہوں — مرزا اسد اللہ خان غالب