خود آرا وحشت چشم پری سے شب وہ بدخو تھا

(Ghazal)

خود آرا وحشت چشم پری سے شب وہ بدخو تھا
کہ موم آئینہ تمثال کو تعویذ بازو تھا
 
بہ شیرینی خواب آلودہ مژگاں نشتر زنبور
خود آرائی سے آئینہ طلسم موم جادو تھا
 
نہیں ہے بازگشت سیل غیر از جانب دریا
ہمیشہ دیدۂ گریاں کو آب رفتہ در جو تھا
 
رہا نظارہ وقت بے نقابی آپ پر لرزاں
سر شک آگیں مژہ سے دست از جاں شستہ ابرو تھا
 
غم مجنوں عزاداران لیلی کا پرستش گر
خم رنگ سیہ پیمانۂ ہر چشم آہو تھا
 
رکھا غفلت نے دور افتادۂ ذوق فنا ورنہ
اشارت فہم کو ہر ناخن بریدہ ابرو تھا
 
اسدؔ خاک در میخانہ اب سر پر اڑاتا ہوں
گئے وہ دن کہ پانی جام مے سے زانو زانو تھا

Source: غیر متداول