خلق ہے صفحۂ عبرت سے سبق ناخواندہ

(Ghazal)

خلق ہے صفحۂ عبرت سے سبق ناخواندہ
ورنہ ہے چرخ و زمیں یک ورق گرداندہ
 
دیکھ کر بادہ پرستوں کی دل افسردگیاں
موج مے مثل خط جام ہے برجاماندہ
 
خواہش دل ہے زیاں کو سبب گفت و بیاں
ہے سخن گرد زدامان ضمیر افشاندہ
 
کوئی آگاہ نہیں باطن ہم دیگر سے
ہے ہر اک فرد جہاں میں ورق ناخواندہ
 
حیف بے حاصلی اہل ریا پر غالبؔ
یعنی ہیں ماندہ ازاں سووازیں سوراندہ
 
میکدے میں زدل افسردگی بادہ کشاں
موج مے مثل خط جام ہے ہر جا ماندہ

Source: غیر متداول