خطر ہے رشتۂ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے

(Ghazal)

خطر ہے رشتۂ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے
غرور دوستی آفت ہے تُو دشمن نہ ہو جاوے
 
سمجھ اس فصل میں کوتاہی نشو و نما غالبؔ
اگر گل سرو کے قامت پہ پیراہن نہ ہو جاوے
 
بہ پاس شوخیٔ مژگاں سر ہر خار سوزن ہے
تبسم برگ گل کو بخیۂ دامن نہ ہو جاوے
 
جراحت دوزیٔ عاشق ہے جائے رحم ڈرتا ہوں
کہ رشتہ تار اشک دیدۂ سوزن نہ ہو جاوے
 
غضب شرم آفریں ہے رنگ ریزی ہائے خود بینی
سفیدی آئینے کی پنبۂ روزن نہ ہو جاوے

Source: متداول