خط جو رخ پر جانشین بالۂ مہ ہو گیا

(Ghazal)

خط جو رخ پر جانشین بالۂ مہ ہو گیا
ہالہ دود شعلۂ جوالۂ مہ ہو گیا
 
حلقۂ گیسو کھلا دور خط رخسار پر
ہالۂ دیگر بہ گرد ہالۂ مہ ہو گیا
 
شب کہ مست دیدن مہتاب تھا وہ جامہ زیب
پارۂ چاک کتاں پرکالہ مہ ہو گیا
 
شب کہ وہ گل باغ میں تھا جلوہ فرما اے اسدؔ
داغ مہ جوش چمن سے لالۂ مہ ہو گیا

Source: غیر متداول