خدایا دل کہاں تک دن بصد رنج و تعب کاٹے
خدایا دل کہاں تک دن بصد رنج و تعب کاٹے
خم گیسو ہو شمشیر سیہ تاب اور شب کاٹے
کریں گر قدر اشک دیدۂ عاشق خود آرا یاں
صدف دندان گوہر سے بہ حسرت اپنے لب کاٹے
دریغا وہ مریض غم کہ فرط ناتوانی سے
بقدر یک نفس جادہ بصد رنج و تعب کاٹے
یقین ہے آدمی کو دستگاہ فقر حاصل ہو
دم تیغ توکل سے اگر پاے سبب کاٹے
ہوے یہ رہرواں دل خستہ شرم نارسائی سے
کہ دست آرزو سے یک قلم پاے طلب کاٹے
اسدؔ مجھ میں ہے اس کے بوسۂ پا کی کہاں جرأت
کہ میں نے دست و پا باہم بہ شمشیر ادب کاٹے