خبر نگہ کو نگہ چشم کو عدو جانے

(Ghazal)

خبر نگہ کو نگہ چشم کو عدو جانے
وہ جلوہ کر کہ نہ میں جانوں اور نہ تو جانے
 
نفس بہ نالہ رقیب و نگہ بہ اشک عدو
زیادہ اس سے گرفتار ہوں کہ تو جانے
 
بہ کسوت عرق شرم قطرہ زن ہے خیال
مباد حوصلہ معذور جستجو جانے
 
جنوں فسردۂ تمکیں ہے کاش عہد وفا
گداز حوصلہ کو پاس آبرو جانے
 
نہ ہووے کیونکے اسے فرض قتل اہل وفا
لہو میں ہاتھ کے بھرنے کو جو وضو جانے
 
زباں سے عرض تمناے خامشی معلوم
مگر وہ خانہ بر انداز گفتگو جانے
 
مسیح کشتۂ الفت ببر علی خاں ہے
کہ جو اسدؔ تپش نبض آرزو جانے

Source: غیر متداول

خبر نگہ کو نگہ چشم کو عدو جانے — مرزا اسد اللہ خان غالب